پہلا قصیدہ، ماخوز ـ جنگلی جانوروں کے ووٹ کے انتظار میں

پہلا قصیدہ، ماخوز ـ جنگلی جانوروں کے ووٹ کے انتظار میں

جب ۱۸۸۴ میں برلِن میں یورپی طاقتوں نے افریقہ کے بٹوارے پر کانفرنس کی تو خلیجِ بینِن اور  ساحلِ غلاماں کا علاقہ فرانسیسیوں اور جرمنوں کو ملا۔ خلیج کے علاقہ میں آبادکاروں نے تہزیبی مِشن کا نیا تجرُبہ کیا۔ امریکہ گئے، غلام خریدے، انہیں آزاد کیا اور خلیج کےعلاقے میں آباد کیا۔

اتنی تگ و دو نہ ہی کرتے، مُکمّل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آزاد کیٗے گئے غلاموں کو ایک ہی دھندا سُوجھا : اُس علاقے کے لوگوں کو پکڑ پکڑ کے غلامی میں بیچنا۔ پر برلِن کی کانفرنس کے بعد غلاموں کی تجارت پر ممانعت کے بین الاقوامی معاہدے ہو چکے تھے۔ اِن آزاد کیٗے گئے غُلاموں سے آبادکاروں کا کام نہ چل سکا۔

انہوں نے اُسی علاقے کے افریقی قبائل سے تجربہ کار سپاہی بھرتی کیٗے اور اپنی توپوں کے زور پر اُس خطے کے کونے کونے پر قبضہ کرنے نِکل پڑے۔ قاتلانہ فتوحات کا یہ سلسلہ ہمہ دم آگے بڑھتا رہا، اُس دن تک کہ جب یورپی آبادکار اُن پہاڑوں میں جا پہنچے جو برِّ اعظمِ افریقہ کی ڑیڑھ  کی ہڈی ہیں اور یہاں اُن کا سامنا ایسے ان دیکھے، ایسے غیر متوقع عجوبے سے ہوا جس کا ذِکر افریقہ کے ماہرین کی اُن کتابوں میں بھی نہ تھا جو کھوجیوں کیلیٗے قاعدہ کی حیثیت رکھتے تھے۔

اُن کا سامنا ننگے اِنسانوں سے تھا۔ ایک دم ننگے اِنسان۔  بِنا کسی مُعاشرتی نظام۔ بِنا سردار۔ ہرخاندان کا سربراہ اپنے قلعے میں رہتا تھا اور اُس کے حکم کی حد اُس کے تِیر کی پہنچ تک کی تھی۔ جنگلیوں کے جنگلی کہ جِن کے ساتھ نہ مُہذِّب زُبان، نہ جارہیت کی زُبان میں بات ہو سکتی تھی۔ بلکہ خوفناک، تِیر انداز جنگلی۔ اُنہیں قلعہ بہ قلعہ فتح کرنا پڑے گا۔ یہ علاقہ وسیع و عریض، نا مہربان  پہاڑی سلسلہ ہے۔ اُس چھوٹی سی فوج کیلیٗے نامُمکِن منصوبہ تھا۔ فاتِحین نے ماہرِ نسلیات سے مشورہ کیا۔ اِن ماہرین نے اُنہیں ننگے اِنسانوں کا نام دیا، پالیونِگرِتیک، یہ نام بہت لمبا ہے، پالیو سے اِکتفا کرتے ہیں۔

ماہرینِ نسلیات نے فوج کو مشورہ دیا کہ پہاڑی سلسلے کو چھوڑ کر میدانی علاقوں کے ڈھکے ہوئے کالوں، مُنظّم کالوں، محکوم کالوں میں اپنی ناصرانہ اور خونی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھیں۔

پالیووں کو سامان اُٹھانے اور جبری مشقّت سے وقتی استثنا دیا گیا۔ (جبری مشقّت وہ لازم اور مُفت کی خدمت تھی جو مقامی لوگ ہر سال سفید فام آبادکاروں کو فراہم کرتے تھے۔) پالیووں کو ان سے مستثنیٰ کر کے پادریوں کے حوالے کر دیا گیا۔ پادریوں کی ذمّہ داری ٹھہری کہ ایجادات کریں، ننگے اِنسانوں سے بات چیت کریں، دِینی تعلیم دیں، انہیں عیسائیت کا درس دیں، اُنہیں مُہذِّب بنائیں۔ اُنہیں اِس قابل کریں کہ وہ آبادکاری کے لائق ہوں، اُن پر نظامت کی جا سکے، وہ قابلِ استحصال ہوں۔


ماخوز جنگلی جانوروں کے ووٹ کے انتظار میں، احمدُو کُورُوما

مغربی افریقہ کا تقشہ: http://www.thisissierraleone.com/wp-content/uploads/2012/08/West-Africa-418×215.jpg

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.