جو گدھا ہوتا ہے

ژورژ براسَوں ۔ جو گدھا ہوتا ہے

جب وہ نئے نویلے ہوتے ہیں
ابھی انڈے سے برامد ہوئے
اپنے خول سے
ہر نوجوان
کی نظر میں بُڈھے
گدھے ہوتے ہیں۔

جب وہ آئے
گنجے سر لے کر
بھورے بالوں والے
اِن سب بُڈھے حُکّوں
کی نظر میں جوان
گدھے ہوتے ہیں۔

میں جو دونوں عمروں کے درمیان ڈگمگا رہا ہوں
دونوں کو ایک پیغام دینا چاھتا ہوں

وقت سے کچھ نہیں ہوتا
جو گدھا ہوتا ہے، گدھا ہوتا ہے
کہ عمر بیس سال ہو، یا بندہ دادا ہو
جو گدھا ہوتا ہے، گدھا ہوتا ہے

بس اب جھگڑا ختم کرو
دقیانوس گدھے یا نومولود

پچھلی برسات کے چھوٹے گدھے
یا ازلی برف کے بُڈھے گدھے

( x 2 )

تم، نومولود گدھے
معصوم گدھے
جوان گدھے
جو، اب جُھٹلانا نہ، بُڈھوں کو گدھا سمجھتے ہو۔۔۔

تم، کُہن سال گدھے
چلے ہوئے گدھے
بُڈھے گدھے
جو، مان لو اب، چھوٹوں کو گدھا سمجھتے ہو۔۔۔

غور کرو اِس غیر جانبدار پیغام پر
عُمروں کے درمیان ڈگمگانے والے کا

وقت سے کچھ نہیں ہوتا
جو گدھا ہوتا ہے، گدھا ہوتا ہے
کہ عمر بیس سال ہو، یا بندہ دادا ہو
جو گدھا ہوتا ہے، گدھا ہوتا ہے

پہلا قصیدہ، ماخوز ـ جنگلی جانوروں کے ووٹ کے انتظار میں

پہلا قصیدہ، ماخوز ـ جنگلی جانوروں کے ووٹ کے انتظار میں

جب ۱۸۸۴ میں برلِن میں یورپی طاقتوں نے افریقہ کے بٹوارے پر کانفرنس کی تو خلیجِ بینِن اور  ساحلِ غلاماں کا علاقہ فرانسیسیوں اور جرمنوں کو ملا۔ خلیج کے علاقہ میں آبادکاروں نے تہزیبی مِشن کا نیا تجرُبہ کیا۔ امریکہ گئے، غلام خریدے، انہیں آزاد کیا اور خلیج کےعلاقے میں آباد کیا۔

اتنی تگ و دو نہ ہی کرتے، مُکمّل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آزاد کیٗے گئے غلاموں کو ایک ہی دھندا سُوجھا : اُس علاقے کے لوگوں کو پکڑ پکڑ کے غلامی میں بیچنا۔ پر برلِن کی کانفرنس کے بعد غلاموں کی تجارت پر ممانعت کے بین الاقوامی معاہدے ہو چکے تھے۔ اِن آزاد کیٗے گئے غُلاموں سے آبادکاروں کا کام نہ چل سکا۔

انہوں نے اُسی علاقے کے افریقی قبائل سے تجربہ کار سپاہی بھرتی کیٗے اور اپنی توپوں کے زور پر اُس خطے کے کونے کونے پر قبضہ کرنے نِکل پڑے۔ قاتلانہ فتوحات کا یہ سلسلہ ہمہ دم آگے بڑھتا رہا، اُس دن تک کہ جب یورپی آبادکار اُن پہاڑوں میں جا پہنچے جو برِّ اعظمِ افریقہ کی ڑیڑھ  کی ہڈی ہیں اور یہاں اُن کا سامنا ایسے ان دیکھے، ایسے غیر متوقع عجوبے سے ہوا جس کا ذِکر افریقہ کے ماہرین کی اُن کتابوں میں بھی نہ تھا جو کھوجیوں کیلیٗے قاعدہ کی حیثیت رکھتے تھے۔

اُن کا سامنا ننگے اِنسانوں سے تھا۔ ایک دم ننگے اِنسان۔  بِنا کسی مُعاشرتی نظام۔ بِنا سردار۔ ہرخاندان کا سربراہ اپنے قلعے میں رہتا تھا اور اُس کے حکم کی حد اُس کے تِیر کی پہنچ تک کی تھی۔ جنگلیوں کے جنگلی کہ جِن کے ساتھ نہ مُہذِّب زُبان، نہ جارہیت کی زُبان میں بات ہو سکتی تھی۔ بلکہ خوفناک، تِیر انداز جنگلی۔ اُنہیں قلعہ بہ قلعہ فتح کرنا پڑے گا۔ یہ علاقہ وسیع و عریض، نا مہربان  پہاڑی سلسلہ ہے۔ اُس چھوٹی سی فوج کیلیٗے نامُمکِن منصوبہ تھا۔ فاتِحین نے ماہرِ نسلیات سے مشورہ کیا۔ اِن ماہرین نے اُنہیں ننگے اِنسانوں کا نام دیا، پالیونِگرِتیک، یہ نام بہت لمبا ہے، پالیو سے اِکتفا کرتے ہیں۔

ماہرینِ نسلیات نے فوج کو مشورہ دیا کہ پہاڑی سلسلے کو چھوڑ کر میدانی علاقوں کے ڈھکے ہوئے کالوں، مُنظّم کالوں، محکوم کالوں میں اپنی ناصرانہ اور خونی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھیں۔

پالیووں کو سامان اُٹھانے اور جبری مشقّت سے وقتی استثنا دیا گیا۔ (جبری مشقّت وہ لازم اور مُفت کی خدمت تھی جو مقامی لوگ ہر سال سفید فام آبادکاروں کو فراہم کرتے تھے۔) پالیووں کو ان سے مستثنیٰ کر کے پادریوں کے حوالے کر دیا گیا۔ پادریوں کی ذمّہ داری ٹھہری کہ ایجادات کریں، ننگے اِنسانوں سے بات چیت کریں، دِینی تعلیم دیں، انہیں عیسائیت کا درس دیں، اُنہیں مُہذِّب بنائیں۔ اُنہیں اِس قابل کریں کہ وہ آبادکاری کے لائق ہوں، اُن پر نظامت کی جا سکے، وہ قابلِ استحصال ہوں۔


ماخوز جنگلی جانوروں کے ووٹ کے انتظار میں، احمدُو کُورُوما

مغربی افریقہ کا تقشہ: http://www.thisissierraleone.com/wp-content/uploads/2012/08/West-Africa-418×215.jpg

دیامر بھاشا ـ۔ ایک اور حماقت

دانش مصطفیٰ
دانش مصطفیٰ

بیرونِ ملک مُقیم پاکستانیوں سے جمع کیٗے جانے والے چندے کی رقم سے وزیرِاعظم عمران خان نے دوسرے منصوبوں کے ساتھ ساتھ  دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا  وعدہ بھی کیا ہے. یہ  پڑھا تو یقین مشکل سے ہی آیا. ڈیموں سے متعلق عالمی کمیشن کے مطابق ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں کی لاگت اپنے ابتدائی تخمینے سے ٩٨ فیصد تک تجاوز کر جاتی ہے. حال ہی میں ہمارے نیلم جہلم ڈیم کے منصوبے کی لاگت میں ٥٠٠ فیصد اضافہ دیکھا گیا یعنی اس کی لاگت ابتدائی تخمینے سے ٥ گنا زیادہ ہے. دیامیر بھاشا ڈیم کی لاگت کا موجودہ تخمینہ ۱۴ ارب امریکی ڈالر ہے . مُحتاط اندازے کے مطابق ڈیم کی اصل لاگت ٢٨ ارب امریکی ڈالر ہوگی. اس سے زیادہ لاگت کے بارے میں سوچنا بھی ناممکن ہے.

سن ٢۰١٦ میں سرکاری تخمینے کے مطابق پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار ۲۸۴ ارب امریکی ڈالر تھی. یعنی ہم اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا ١٠ فیصد دیامیر بھاشا ڈیم پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں. یورپ میں اس وقت بنیادی سطح پر سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ لندن کا کراس ریل منصوبہ ہے جس کی لاگت ١٩ ارب امریکی ڈالر ہے لیکن اس منصوبے میں برطانوی معیشت سرمایا لگا رہی ہے جس کی اپنی قدر ٢٦ کھرب امریکی ڈالر ہے. ان اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ پاکستانی عوام سے اس منصوبے پر غیر متناسب سرمایہ کاری کا تقاضہ کیا جا رہا ہے اور یہ منصوبہ شائد ضروری بھی نہیں۔

پِچھلے بیس سال سے پاکستانی اینجینئیرنگ اِسٹیبلِشمنٹ دل ہی دل میں یہ جانتی ہے کہ زلزلہ کے خطرے کی وجہ سے دیامر بھاشا ڈیم تکنیکی طور پر ناقابلِ عمل ہے۔ یہ ڈیم در اصل برِصغیر اور یوریژیا کی ارضیاتی پرتوں کی سرحد پر واقع ہے۔ اس علاقے میں جا بجا زیرِزمین گہرے شگاف موجود ہیں، اور واپڈا کے اپنے تکنیکی تجزیاتی مطالعوں میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ بشیر ملک جیسے انجینئیر جو عالمی بینک اور اقوامِ متحدہ کے فنّی مشیر رہ چکے ہیں اور جو پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے زبردست حامی گِنے جاتے ہیں، انہوں نے خود دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ زلزہ سے بھاشا ڈیم کے تباہ ہونے کا امکان اتنا زیادہ ہے کہ اس کو تعمیر نہیں کرنا چاہئیے۔

دریائے سندھ کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ گارہ بردار دریاوں میں کیا جاتا ہے، جس وجہ سے موافق حالات میں بھی، اس پر ڈیم باندھنا پُرخطر کام سمجھا جاتا ہے۔ نا صرف یہ، بلکہ اینجینئیر حضرات کے منصوبے کے مطابق یہ ڈیم دنیا کے اونچے ترین کانکریٹ سے بھرے ڈیموں میں شمار کیا جائے گا۔ یہ طے شُدہ بات ہے کہ اُونچے ڈیم کے پیچھے جمع پانی کے وزن سے بڑے زلزلے آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اِس مظہرِ قُدرت کا تفصیلاً مطالعہ کیا جا چکا ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے، ایسا کیوں ہے کہ مُلک کا پیسہ اور وقت ایک ایسے منصوبہ پر صرف ہو رہا ہے جسے خود اینجینئیر ناقابلِ عمل سمجھتے ہیں؟

یہ کوئی حُسنِ اِتِّفاق نہیں کہ متعدد افتتاحی تقریبات کے باوجود، اس ڈیم پر تعمیراتی کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اِس کی وجہ پیسوں کی کمی ہے۔ حتّیٰ کہ اس منصوبے سے تو چینیوں نے بھی ہاتھ اُٹھا لئیے ہیں، جبکہ اُنہیں ڈیم کی تعمیر کا ماہر  سمجھا جاتا ہے۔ یہ کِسی سازش کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر سرمایہ کار وہ جانتا ہے جو واپڈا خود جانتا ہے، کہ اس ڈیم کی ناکامی کے امکانات زیادہ ہیں اور ایک ایسا مُلک جو اپنی سالانہ پیداوار کا ۱۰ فیصد ایسے منصوبے پر لگانے جا رہا ہے، وہاں سرمایہ کاری کا جواز نہیں بنتا۔  مُجھے اِس منصوبے کے بارے میں الہام نہیں ہوا، نہ ہی میں نے بذاتِ خود اس پر تحقیق کی ہے، یہ حکومت کے اپنے دستاویزات ہیں جن میں اِن عوامل کا ذکر کِیا گیا ہے۔

سچ بات تو یہ ہے کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ واپڈا بدستور ایک ایسے منصوبہ کی حمایت کیوں کر رہا ہے کہ جسے وہ خود غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ میں بد گمانی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ شاید اُنہوں نے سوچا کہ ڈیم تو بننا نہیں، کیوں نا کنسلٹینسی اور اینجینئیرنگ کے ٹھیکوں سے کچھ جمع پونجی بنائی جائے؟ ویسے بھی، ڈیم کو توجّہ کا مرکز بنانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مُلک کے مُختلِف شعبوں میں پانی کے بٹوارے میں عدم مطابقت اور بد انتظامی پر اُٹھنے والے مشکل سوالات پسِ پردہ چلے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ واپڈا کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق سِسٹم میں مزید بڑے ڈیموں کیلیٗے پانی نہیں ہے۔ مثلاً سال میں ۹۰ فیصد وقت دریائے سندھ میں کوٹری کے بعد ۲۵ لاکھ کیوسیک سے کم پانی گزرتا ہے۔ صرف سیلاب کے دوران ۱۷۶ لاکھ کیوسیک کی تسلّی بخش مقدار میسر ہوتی ہے۔

میں نے کبھی دیامر بھاشا ڈیم کے بارے میں نہیں لِکھا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ زلزلہ کے خطرہ کی وجہ سے کوئی بھی اس میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ پاکستانی اینجینیٗر جانتے ہیں کہ ڈیم کا منصوبہ نا قابلِ عمل ہے۔ علاوہ ازیں، کوئی بھی شخص جو حساب جانتا ہے آپ کو بتا سکتا ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کیلیٗے چندہ جمع کرنے میں صدیاں بیت جائیں گی۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس منصوبے کا مزید کئی درجن دفعہ افتتاح کیا جائے گا، اس وقت تک کہ جب تک زندگی ہمیں کسی نئے جنون کی طرف نہ لے جائے۔


مُصنّف کِنگز کالج لندن میں شعبہِ جغرافیہ میں سیاست اور ماحولیات کے مُحقِّق ہیں۔ وہ پانی کے وسائل، خطرات اور ترقیاتی جغرافیہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یہ مقالہ پہلے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائیمز میں ۱۰ ستمبر، ۲۰۱۸ کو شائع ہوا

https://dailytimes.com.pk/295537/folly-thy-name-is-diamer-bhasha

مترجم: ڈاکٹر نُصرت ذہرہ، امان اللہ کریاپر

Lahore, 2000 AD

Lahore, 2000 AD

 

“There are two chapters of resistance in the history of the PML-N. The second one is this period since Nawaz Sharif was disqualified by the Supreme Court in July 2017. But the original one was written under the stewardship of Begum Kulsoom. Until she started challenging the military dictator, this aspect of the party was hidden from public view,” argues a political commentator who wishes to remain anonymous.

https://www.dawn.com/news/1432417

This story is from a time when I thought all politicians deserved all the trouble they got.

I was disgusted with Nawaz for the shameless way in which they exploited the gullibility of millions of sincere, patriotic Pakistanis in the “mulk sawaanro, qrz utaro” scheme.

And I was uncomfortable with PPP due to Zadari’s reputation as Mr 10% and the large number of feudals in that party. I was also suspicious of Benazir due to some interviews she had given on CNN in the mid 90s.

But I’d read the Herald report on the number of dead of the Northern Light Infantry in the Kargil adventure (conservatively estimated at 10,000, but possibly as high as 18,000, if I’m not mistaken) and how, contrary to usual practice, the bodies of the martyrs were not being returned as soon as possible, but deliberately delayed by two to three months, that is, the army was staggering their return so as to avoid a possibly dangerous upsurge in emotion among the population of Gilgit-Baltistan. In the face of this tragic slaughter (exceeding the total of all the previous wars between India and Pakistan) I couldn’t unquestioningly get behind the adulation of heros like Lalak Jan and others – not because I didn’t appreciate their bravery or sacrifice, but because I saw it being used to divert attention from the strategic and tactical miscalculations at the higher level of miltary decision-making that forced them to sacrifice their lives.

Not a single senior military officer resigned in recognition of the failure of the adventure. However, thousands of soldiers and hundreds of junior officers died – for no gain to the country.

As Begum Kulsoom Nawaz is laid to rest, I recall that time in my life when I was a confused and helpless observer, wondering how to make sense of all this. Her action – this very image of her car suspended in mid-air – added yet another question to the growing list of questions I had on politics and direct military rule.

Much has improved since then, notably the level of mass participation in practical politics and debate on public affairs.  I’m hopeful that my land will continue to produce more of the courage and intelligence required to question the unquestionables, and make Pakistan the land of justice, peace and opportunity that we dream of.

“the horror, the horror” OR Punjabi Showdown, Part 2

“the horror, the horror” OR Punjabi Showdown, Part 2

Kargil has indeed cast a long shadow over us.

Other things too. In recent days, as the row between the PML N and the men on horseback intensifies, I’m struck by certain political lineages. But first, let’s just applaud this veteran politician for finally saying in public what so many have thought in private:

Javed Hashmi’s press conference in Multan

Javed Hashmi, “the reward for the blood of the martyrs is, however, not the right to rule”

Back to lineages and Punjab vs Punjab:

In a discussion on Fatima Jinnah’s challenge to another dictator, Ayub Khan, someone pointed out that the person who committed the most disgusting PR stunt in Gujranwala against her election campaign, was the father of Khwaja Asif, a PML N stalwart and outspoken critic of the military’s role in politics and foreign policy.

Those who were old enough to remember the explosion and aftermath of the Ojhri Camp disaster 30 years ago, felt a disturbance in the force, so to speak, when they heard of Shahid Khaqan Abbasi becoming Prime Minister – his father, after all, was Zia’s Minister of Production, and the man personally in charge of handling the supply line of Stinger missiles from the Americans to the Mujahideen – who tragically died when one of the Stingers set off by the explosions at Ojhri, locked on to his car’s engine and blew it up. Journalists from that time allege that Stingers required specialist training to operate – only someone with that training could have set them off and there was a very limited set of people within the military who had that training. That set of people was under extreme pressure from the Americans to explain how it was that one of their (the Americans’) spy planes had been shot down by a Stinger fired by Irani ground troops – given that the only country the Americans had sold the Stingers to was Pakistan. The blowing up of the entire stockpile of Stinger missiles eliminated the possibility of the audit that the Americans were demanding. Someone or some people decided that it was acceptable to kill hundreds of Pakistanis, wound and maim thousands and endanger the national capital as well as the military GHQ in order to escape accountability. A somewhat fictionalised account of one reporter’s first-hand experience of this events can be found in Tariq Mehmood’s The Song of Gulzarina. The public was never informed of what happened and common Pakistanis who happened to be in the wrong place at the wrong time still have no answers to their questions. So much for discipline, so much for order and justice. No one was hanged, much less jailed for this complete breakdown in national security, for this mass murder.

And, of course, the party crying foul at being victimised by the establishment is the very party for whom the establishment rigged the 1990 elections, as established in the Asghar Khan case.

Khwaja Asif’s father, Shahid Khaqan Abbasi’s father, Maryam Nawaz’s father… the sins of their fathers, it seems, are being visited upon them… except, of course, that the power doing the visiting was once their benefactor, their best friend.

And now, the usual “unidentified men” have attacked and beaten up the elderly Javed Hashmi.

How much shit must you have pulled to be so scared of the slightest whisper of accountability?!

Every single day furnishes further proof of what Benazir Bhutto said, “Democracy is the best revenge.”

Today Raza, tomorrow me

Today Raza, tomorrow me

I met Raza one chilly evening in December 2007, during the agitated, confusing and angry “winter of our discontent”. It was on a quiet street in GOR I in Lahore, where friends had gathered to mount a vigil in support of a judge of the High Court who had refused to take oath under the new Provisional Constitutional Order of General Musharraf’s Emergency Rule. This judge was among the scores of judges summarily dismissed by the regime – which now wanted to evict him and his family from his official residence in contravention of the 30 day notice period. Local activists had decided to mount a vigil outside this residence as a show of support and to bring attention to the rampant abuse of unaccountable power that was quickly taking over the country. Some of them guilted me into joining them for a few hours.

As we were a small group, everyone eventually got into a discussion of the political events going on at that time. There were some lawyers, a couple of young members of PTI (among them Raza), some “white-collar workers” like myself, some life-long human rights activists, elderly ladies in their 60s.

Raza’s arrest, alongwith that of a few other friends and others, a few nights later, became a cause célèbre for the lawyers movement as it was the first time that ordinary citizens, not aligned with any of the major political parties, not even lawyers, had stood up to the imposition of martial law and affirmed their belief in the necessity of legitimate, representative, civilian government – by the people, of the people, for the people.

We have been friends ever since, collaborating on a variety of causes over the years: highlighting the complicity of the government in enforced disappearances in 2006 – 2008, helping with relief efforts in support of internally displaced persons in Swat in 2009, demonstrating against Israeli aggression in Gaza in 2009/10 and again in 2011, participating in the campaign for the release from unlawful detention of Baba Jan Hunzai and his comrades.

In the spring of 2008, at the HRCP’s Dorab Patel Auditorium, we organised a seminar, “Missing in Pakistan”, that re-focused national attention on this most disquieting phenomenon. Our guests of honour included the families and representatives of Pakistanis abducted by security agencies, whose whereabouts remained unknown. We did not discriminate on the basis of ideology or possible accusation/reason for internment – our stance was, and remains, simple: the right to due process before the law is the basic requirement for civilized conduct and justice, regardless of the nature of the accusation. Raza was an active member of the organizing team of this event.

On the evening of December 2nd, 2017, Raza himself was abducted by people whom law-enforcement authorities privately confirm could only have been members of the security agencies.

It is now more than four months since his enforced disappearance, almost exactly ten years since he helped to organize the “Missing in Pakistan” seminar.

I have to stand up for him and for myself now.

اتنا نہ ڈراوؑ کہ ڈر ہی ختم ہو جائے۔